Search This Blog

Tuesday, January 30, 2024

عرب پناہ لینے والوں پر حملہ نہیں کرتے تھے | Urdu Islamic Story | KHaakii Writes

عرب پناہ لینے والوں پر حملہ نہیں کرتے تھے | KHaakii Writes
 عرب پناہ لینے والوں پر حملہ نہیں کرتے تھے 

امام الانبیاء خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ ام المومنین خدیجتہ الکبری اور چچا ابو طالب وفات پا گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ عرصہ بعد سفر طائف تشریف لے گئے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف و ثقیف کو اسلام کی دعوت دی اور کفار مکہ کے مقابلے میں مدد طلب کی ۔ بنو ثقیف کے سردار تین بھائی تھے ۔ عبدیالیل بن عمرو بن عمیر ، مسعود بن عمرو بن عمیر ، حبیب بن عمرو بن عمیر ۔

ان تینوں بھائیوں نے رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ اس طرح مایوس کیا ۔ ایک جو غلاف کعبہ بانٹ رہا تھا نے کہا ۔" کیا آپ کو اللہ نے نبی بنا کر بھیجا ہے۔۔؟ 

دوسرے نے کہا ۔" تمہارے سوا (معاذ اللہ) کوئی اور اللہ کو رسالت کے لیے نہیں ملا ۔؟ 

تیسرے نے کہا ۔" میں تم سے کوئی بات نہیں کرتا اگر تم واقعی میں جیسا تم نے کہا تم نبی ہو تو تمھاری بات کی تردید کرنا انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے اور اگر تم اپنے دعوے میں (معاذ اللہ) جھوٹے ہو اور اللہ پر افترا کرتے ہو تو تم اس قابل نہیں کہ ( معاذ اللہ) تم سے کلام کروں ۔

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے تو ان تینوں بھائیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑایا اور اوباش نوجوانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لگا دیا جو بغلیں بجاتے اور طعنہ دیتے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارنے شروع کردیے جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک زخمی ہوگیا ۔

جب طائف سے واپس آئے تو مکہ کے قریب ایک شخص سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے کہا کیا تم میرا پیغام جہاں میں چاہتا ہوں پہنچا دو گے ۔۔؟ 

اس پر اس شخص نے " کہا بہتر ہے   ۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔ تم اخنس بن شریق کے پاس جاؤ اور اسے میرا پیغام دو اور کہو۔۔! " کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم سے کہتے ہیں کہ مجھے اپنے پاس آنے کی اجازت دو تاکہ میں اللہ کا پیغام تم کو سناؤں ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یکے بعد دیگرے تین لوگوں کے پاس اس شخص کو بھیجا جن میں سہیل بن عمرو اور مطعم بن عدی شامل تھے ۔۔ اخنس نے یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ نہیں دی کیوں کہ وہ عربوں کا حلیف تھا ۔۔ سہیل بن عمرو نے یہ کہہ کر پناہ نہیں دی کہ میں قریش کے خلاف نہیں جاسکتا ۔

جب وہ شخص مطعم بن عدی کے پاس پہنچا اور کہا ۔۔" محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو اللہ کا پیغام سنانا چاہتے ہیں اور یہ کہ وہ آپ کی پناہ میں آنا چاہتے ہیں ۔۔ مطعم بن عدی نے کہا ۔" میں اسکے لیے تیار ہوں ۔ اس شخص نے یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مطعم بن عدی کی پناہ میں گئے ۔۔ اگلے صبح مطعم بن عدی خود  اسکے بیٹے اور بھتیجے ہتھیاروں سے لیس مکہ میں آئے ابو جہل کو چونکہ خبر مل چکی تھی اسی لیے اس نے دیکھ کر پوچھا ۔۔ " پیرو ہو یا پناہ دینے والے ہو ۔۔۔؟ مطعم بن عدی نے کہا " میں پناہ دینے والا ہوں ۔

اس پر ابو جہل نے کہا ۔" اچھا تو پھر جسے تم نے پناہ دی اسے ہم نے بھی پناہ دی ۔

اسی طرح دور جاہلیت میں بھی کئی سالوں تک عرب قبائل میں جنگیں ہوئیں لیکن جب کسی دشمن نے کسی حلیف قبیلے کے ہاں پناہ لے لی تو دشمن قبیلہ پناہ لینے والے اور دینے والے کی حرمت کا خیال رکھتے تھے جب تک وہ چاہتا وہاں رہ سکتا تھا اگر پوری عمر دشمن پناہ لے لیتا تب بھی اس کے قتل یا مارنے کے لیے دشمن قبیلے کے لوگ نہیں آتے یہاں تک کہ وہ خود وہاں سے نہ چلا جاتا ۔۔جہاں لوگ عربوں کے دور جاہلیت کی من گھڑت کہانیاں سناتے وہاں انکا اس قدر تہذیب یافتہ چہرہ دکھانے سے گریز کرتے ہیں عموماً بعد کے جدید شیعہ اور مغربی مورخین جن میں فارسی شامل تھے نے عربوں کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔

No comments:

Post a Comment

Hot Posts

Featured

KHaakii Writes

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Vestibulum rhoncus vehicula tortor, vel cursus elit. Donec nec nisl felis. Pellentesque ultrices sem sit amet eros interdum, id elementum nisi ermentum.Vestibulum rhoncus vehicula tortor, vel cursus elit. Donec nec nisl felis. Pellentesque ultrices sem sit amet eros interdum, id elementum nisi fermentum.




Contact Us

Name

Email *

Message *