Search This Blog

Saturday, February 17, 2024

Who was Saadi | Sheikh Saadi ki Halat e Zindagi in Urdu |KHaakii Writes


Who is Sheikh Saadi

Introduction and Birth

 I don't know how many people were born and died in this world. We find the names of only a few people in the mentions of the living people and on the pages of history. Because those people were the most prominent in their lifetime and had such feats that the world could not forget them till today. One of them is the lucky Sheikh Saadi.
The famous Sufi elder Hazrat Sayyiduna Sheikh Abu Muhammad Musalih al-Din Saadi Shirazi (may Allah have mercy on him) was a great poet and writer. Your place of birth is Shiraz, Iran and you were born in the year 589 Hijri

تعارف اور پیدائش

اس دنیا میں نہ جانے کتنے لوگ پیدا ہوے اور مر گئے۔ ہم زندہ لوگوں کے تذکروں اور تاریخ کے صفحات پر صرف چند لوگوں کے نام ملتے ہیں۔کیونکہ وہ لوگ اپنی حیات میں ہی ممتاز ترین تھے اور ایسے کارنامے کے گزرے کہ انہیں دنیا آج تک بھلا نہ سکی۔ ان میں سے ایک خوش نصیب شیخ سعدی ہیں ۔

مشہور صوفی بُزرگ حضرتِ سیّدُناشیخ ابومحمد مُصْلِحُ الدِّین سَعدی شیرازی علیہ رحمۃ اللہ بہت بڑےشاعراورادیب تھے۔ آپ کی پیدائش کی جگہ ایران کےشہرشیراز ہے اور آپ کی پیدائش سن 589 ہجری کو ہوئی۔

The Reason for Saying Saadi

 Saadi is your salvation. Your father was an employee of Abdullah Badshah "Saad Zangi". Upon the death of his father, Saad Zangi took responsibility for the upbringing and education of him (may God bless him and grant him peace). He suggested his takhuls Saadi in relation to the name of the king.

سعدی کہنے کی وجہ

 سعدی آپ کا تَخَلُّص ہے۔ آپ کے والد عبداللہ بادشاہ”سعدزنگی“کے ملازم تھے۔ والد کے انتقال پر سعد زنگی نےآپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی پرورش اور تعلیم و تربیَت کا ذمّہ لیا۔بادشاہ کےنام کی نسبت سےآپ نے اپنا تَخَلُّص سعدی تجویز کیا۔(حیاتِ سعدی، ص20ملخصاً،حکایاتِ سعدی، ص11)

Click Here For More

Education 

 His father Abdullah was very noble and there was much talk of piety in his house. For this reason, Sheikh Saadi was reminded of the important issues from his childhood, and at a young age, he was very fond of night vigils and recitation of Allah's Word.

 He (May God bless him and grant him peace) says: Since childhood, I was very fond of worship and sports, and I was very eager for tahajjud prayer and recitation of the Qur'an. Your mother did it. This thing is known from her poems

 He left his homeland to complete his studies because at that time there was an endless series of wars and Shiraz itself was being devastated. Baghdad was still spared from destruction, it was still the capital and the center of knowledge and scholars and the city of Afaq Darul Uloom Nizamiyyah. The fame of Darul Uloom Nizamiyyah was echoing throughout the Islamic world which drew Sheikh Saadi to Baghdad and entered Nizamiyyah.

 In Darul Uloom Nizamiya you got knowledge from great scholars. I would like to mention one of them. He has been called the Imam of his time and every scholar should be proud of him. His name was Abu Al Faraj Abd al-Rahman bin Juzi, may God have mercy on him. He had great love for Sheikh Saadi. Sheikh Sadi was worthy from his childhood, which was envied by some seminary students. One day, he complained to his teacher Ibn Juzi about these students, and the teacher said, "They are also ruining their destiny and so are you, they with jealousy and envy and you with backbiting."

  Sheikh Saadi (may Allah have mercy on him) left the country due to the ongoing war in the country and moved to Baghdad, where he enrolled in "Madrasa Nizamiyyah" and engaged in the study of knowledge. He acquires knowledge till the age of about 30 years. (Hayat-i Saadi, p. 23, 25, 32 excerpted)

تحصیلِ علم

آپ کا باپ عبداللہ نہایت شریف تھے اور آپ کے گھر میں دینداری کا بہت زیادہ چرچا تھا۔ اسی وجہ سے شیخ سعدی کو بچپن سے ہی ضروری مسائل یاد کروا دیے گئے تھے اور چھوٹی سی عمر میں ہی شب بیداری اور تلاوتِ کلام اللہ کا شوق بہت زیادہ تھا۔

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:بچپن سے ہی  مجھے عبادت و رِیاضت کا بڑا شوق تھا اور میں تہجد کی نَماز اور تلاوتِ قراٰن کا بڑا حریص تھا۔لیکن ان کے والد کا انتقال بچپن میں ہی ہو کیا تھا اور بقیہ جوانی تک کی تربیت آپ کی والدہ نے ہی کی تھی ۔اس چیز کا پتہ ان کے اشعار سے ملتا ہے

آپ نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے اپنے وطن کو خیر آباد کہا کیونکہ اُس وقت میں جنگوں کا ایک لا متناہی سلسلہ جاری تھا اور خود شیراز پر تباہیاں ٹوٹ رہی تھیں۔ بغداد ابھی بربادی سے بچا ہوا تھا بدستور دارالخلافہ تھا اور علم و علماء کا مرکز اور شہرۂ آفاق دارالعلوم نظامیہ آباد تھا۔ دارالعلوم نظامیہ کی شہرت پوری اسلامی دنیا میں گونج رہی تھی جو شیخ سعدی کو بغداد کھینچ لائی اور نظامیہ میں داخل ہو گئے۔

دارالعلوم نظامیہ میں آپ کو بہت بڑے بڑے علماء سے علم حاصل کیا۔ جن میں سے ایک کا تذکرہ کرنا چاہوں گا ۔ ان کو اپنے زمانے کا امامِ وقت کہا گیا ہے اور ہر علم والے کو ان پر فخر ہونا چاہیے۔ ان کا نام ابو الفرج عبد الرحمن بن جوزی رحمہ اللّٰہ تھا۔ شیخ سعدی سے ان کا بڑا پیار تھا ۔ شیخ سعدی بچپن سے ہی لائق تھا جس پر کچھ مدرسے کے طلباء حسد کرتے تھے ۔ ایک دن آپ نے اپنے استاد ابن جوزی سے ان طلباء کی شکایت کی تو استاد نے فرمایا "وہ بھی اپنی عاقبت خراب کر رے ہیں اور تم بھی، وہ رشک و حسد سے اور تم بد گوئی و غیبت سے"

 شیخ سعدی علیہ رحمۃ اللہ القَوی نےوطن میں جاری جنگ کی وجہ سے وطن چھوڑ کربغداد  کارخ کیا اور وہاں ”مدرسہ نظامیہ“ میں داخلہ لےکر تحصیلِ علم میں مصروف ہو گئے۔ تقریباً 30 سال کی عمر تک علم حاصل کرتےرہے۔ (حیاتِ سعدی، ص23،25،32 ماخوذاً)

Journey to the Right Path

He (May Allah have mercy on you) pledged your allegiance to Hazrat Syed Nasheikh Shahab-ud-Din Umar Suhrawardy (May Allah have mercy on you). He was a famous and well-known sheikh of his time. Saadi set the standards of behavior under his guidance.

راہ حق کا سفر 

آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ حضرتِ سیّدُناشیخ شہابُ الدّین عمر سہروردی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے بیعت تھے۔ جو کی اپنے وقت کے مشہور و معروف شیخ تھے۔آپ نےراہِ سلوک کی مَنازِل انہی کی راہنمائی میں طےکیں۔(حیات سعدی، ص25ماخوذاً)

Urdu Stories Click Here 

Excursions

 His travels continued for about 30 years, even after Ibn Battuta, he was called the greatest oriental traveler. Among the countries he traveled to were Syria, Palestine, Egypt, Africa and India. Included. (quoted from Hayat Saadi, p. 35)

سیر و سِیاحَت 

آ پ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی سیاحت تقریباً 30 برس جاری رہی حتی کہ ابنِ بَطُّوطہ کے بعدآپ کو سب سے بڑامشرقی سَیّاح کہا گیا۔آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے جن مَمالک کا سفر فرمایا ان میں شام،فلسطین،مصر،افریقہ اور ہندوستان بھی شامل ہیں۔ (حیات سعدی، ص35ماخوذاً)

Popularity in the Court of Allah and Holy Prophet Muhammad 

 1. An old man dreamed that there were plates of light in the hands of angels. Asked: Who are these for? The angels said: This is a gift for Saadi Shirazi because one of his poems has been accepted in the court of God:

 In the eyes of the green leaves of the trees, every leaf of the smart office worker is knowledgeable

 (That is, from the leaves of green trees in the eyes of the seer

 (Each leaf is an office of knowledge of the Creator of the Universe.)

 When he woke up from his deep sleep, he went to Sheikh Saadi's place to give the good news. Do you see that Sheikh Saadi was reciting this poem after lighting a lamp?

 2. Once someone said that you are very lazy (i.e. bad luck), the Messenger of God (May God bless him and grant him peace) came to him in a dream and expressed his displeasure. He appeared and apologized and convinced you. (Also, p. 731)

اللہ و رسول کی بارگاہ میں مقبولیت

1 ۔ ایک بُزرگ نے خواب دیکھاکہ فرشتوں کے ہاتھوں میں  نور کے طَباق ہیں۔ پوچھا:یہ کس کیلئے ہیں؟ فرشتوں نے کہا: یہ سعدی      شیرازی کیلئے تحفہ ہے کیونکہ اس کاایک شعر بارگاہِ حق تعالیٰ میں مقبول ہوا ہے:

برگِ درختانِ سبز در نظرِ ہوشیار                                                                               ہرورقے دفتریست معرفتِ کردگار


(یعنی صاحبِ نظر کی نگاہ میں سبزدرختوں کےپتّوں میں سے

ہر ایک پتّا خالقِ کائنات کی مَعرِفت کا ایک دفتر ہے)


جب وہ بُزرگ نیند سے بیدار ہوئے تو اسی وقت شیخ  سعدی  کےمکان پر خوشخبری دینے گئے۔کیا دیکھتے ہیں کہ شیخ سعدی چراغ جلاکر یہی شعر پڑھ رہے تھے۔(مراٰۃ الاسرار مترجَم ، ص731 ملخصاً)

2 ۔ ایک بار کسی  نے آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کوسخت سُست (یعنی بُرا بھلا)کہاتو رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس کے خواب میں تشریف لائے اورناراضی کا اظہار فرمایا، وہ شخص بیدار ہوتے ہی شیخ سعدی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی خدمت میں حاضر ہوا اور مُعافی مانگ کر آپ کو راضی کرلیا۔(ایضاً، ص731)

Famous Works

His famous work are two books named "Gulistan" and "Bustan" .The first book is Gulestan in prose, while the second book is in poetry - no book in the Persian language has become more popular than them.

Verses of Bustan

 The famous work of Sheikh Saadi Shirazi was published in 1257. Which has been translated into various languages. Contains ten chapters.

 1. Justice and opinion and tact.

 2. Virtue Ihsan

 3. love

 4. Fun and noise

 5. modesty

 6. Contentment.

 7. training

 8. Thank goodness.

 9. Repentance and righteousness.

 10. Prayers

مشہور تصانیف  

آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی مشہورِ تصانیف میں ’’گلستان‘‘ اور ’’بوستان‘‘ مشہورہیں- پہلى كتاب گلستان نثر ميں ہے جبكہ دوسرى كتاب بوستان نظم ميں ہے- فارسی زَبان میں کوئی کتاب ان سے زیادہ مقبولِ خاص و عام نہ ہوئی۔

شیخ سعدی شیرازی کی مشہور تصنیف 1257ء جس میں اخلاقی مسائل حکایتوں کے پرایے میں نظم کیے گئے ہیں۔ جو مختلف زبانوں میں متعدد ترجمے ہو چکے ہیں۔ دس ابواب پر مشتمل ہے۔

1۔ عدل و رائے و تدبیر۔ 

2۔ فضیلت احسان 

3۔ عشق 

4۔مستی و شور 

5۔ تواضع 

6۔ قناعت۔ 

7۔ تربیت۔ 

8۔ شکر برعافیت۔ 

9۔ توبہ و صواب۔ 

10۔ مناجات

Death

He (May God bless him and grant him peace) passed away on the Friday night of Shawwal 691 Hijri (at the age of 102 years) in Shirazhi, and here is the blessed tomb of him.

وصال 

آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے شبِ   جمعہ شوّالُ المکرّم 691 ہجری کو(102سال کی عمر میں) شیرازہی میں وِصال فرمایا اور یہیں آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا مزار مبارک ہے۔

Tomb and Burial

 Saadi's Tomb, commonly known as Saadia, is a mausoleum in the Iranian city of Shiraz that belongs to the famous Persian poet Sheikh Saadi Shirazi. Saadi was buried here in a monastery. A mausoleum was built for Saadi in the 13th century by Abaqa Khan's vizier Shamsuddin Jawini. This tomb was destroyed in the 17th century. During the reign of Karim Khan, a two-storey mausoleum of brick and plaster was constructed, containing two rooms. The present building was constructed between 1950 and 1952, with architect Mohsin Forogi. Elements of ancient and modern architecture are found in it. It is inspired by the Chahal pillar. On the walls around the tomb are carved seven verses from Saadi's poems.

Tomb of Saadi

مقبرہ اور تدفین 

سعدی کا مقبرہ جسے عام طورسے سعدیہ کہا جاتا ہے، ایرانی شہر شیراز میں ایک مقبرہ ہے جو فارسی کے شہرہ آفاق شاعر شیخ سعدی شیرازی کا ہے۔ سعدی کو یہیں ایک خانقاہ میں دفن کیا گیا تھا۔ 13ویں صدی میں ابقا خان کے وزیر شمس الدین جوینی نے سعدی کے لیے ایک مقبرہ بنایا تھا۔ 17ویں صدی میں یہ مقبرہ تباہ ہو گیا تھا۔ کریم خان کے دور حکومت میں اینٹوں اور پلاسٹر کی دو منزلوں کا ایک مقبرہ تعمیر کیا گیا تھا، جس میں دو کمرے تھے۔ موجودہ عمارت 1950 اور 1952 کے درمیان تعمیر کی گئی ہے، جس کے معمار محسن فوروگی تھے۔ اس میں قدیم و جدید فن تعمیر کے عناصر پائے جاتے ہیں۔ یہ چہل ستون سے متاثر ہے۔ قبر کے ارد گرد دیواروں پر سعدی کی نظموں کے سات اشعار نقش ہیں۔

F&Q

Q. What is Saadi famous for ?
Ans. His famous work are two books named "Gulistan" and "Bustan" .The first book is Gulestan in prose, while the second book is in poetry - no book in the Persian language has become more popular than them.

Q. What is the features of Gulistan e Saadi? 
Ans. Gulistan e Saadi contains Stories and Personal anecdotes. Basically Gulistan e Saadi in Prose. 

Q. Who is the Author of Bustan?
Ans. The Author of Bustan is the famous Sufi elder Hazrat Sayyiduna Sheikh Abu Muhammad Musalih al-Din Saadi Shirazi (may Allah have mercy on him)

Q. What is the writing style of Saadi? 
Ans. Sheikh Saadi Shirazi wrote in both Persian and Arabic languages. The writing style of Saadi is both Poetry and some lesser work in prose. 

Q. What is the date of birth of Sheikh Saadi?
Ans. Your place of birth is Shiraz, Iran and you were born in the year 589 Hijri. 

Thanks for Visiting Our Page, Please Give Your Valuable Opinion In Comment Section... 

No comments:

Post a Comment

Hot Posts

Featured

KHaakii Writes

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Vestibulum rhoncus vehicula tortor, vel cursus elit. Donec nec nisl felis. Pellentesque ultrices sem sit amet eros interdum, id elementum nisi ermentum.Vestibulum rhoncus vehicula tortor, vel cursus elit. Donec nec nisl felis. Pellentesque ultrices sem sit amet eros interdum, id elementum nisi fermentum.




Contact Us

Name

Email *

Message *